Categories
Learn Quran Online

نفسیاتی مسائل میں تصوراتی سوچ کا عمل دخل

آپ کو اگر دو چار سال سے نفسیاتی مسائل کا کسی حد تک سامنا ہے تو آپ اس بات سے متفق ہوں گے کہ ڈاکٹر نیند کی گولی اور ذاتی بھاشن کے سوا کچھ نہیں کر سکتا۔

ڈپریشن اور انزائٹی کا مریض ڈاکٹر کے پاس جانے کو آسانی سے تیار نہیں ہوتا۔زیادتی تب زیادہ ہوتی ہے جب تیماردار مریض کو سمجھانے لگتے ہیں۔ “خوش رہا کرو” یہ ایسا جملہ ہے جسے سن کر ڈپریشن ونفسیاتی پن کا مریض بھنبھنا جاتا ہے۔سب اسے سمجھاتے ہیں مگر کوئی اسے سمجھنے کو تیار نہیں ہوتا۔ نفسیاتی مریض عام آدمی سے کہیں زیادہ دور اندیش ہوتا ہے وہ معمولی معاملات کو بھی باریک بینی سے جانچنے کا عادی ہوتا ہے۔ ایسے مریض میں انزائٹی کی شدت اس وقت انتہائی بڑھ جاتی ہے جب وہ کسی مسئلے کی تہہ تک پہنچ کر حل بھی ڈھونڈ نکالے مگر عملی طور پر ناکام رہے۔ جہاں تک مسئلے کا تعلق ہے تو یہ گھریلو،معاشی،سماجی،سیاسی،زاتی یا کوئی اور بھی ہو سکتا ہے۔ مثلاً پچھلے دنوں ایک آدمی بجلی کے کھمبے سے لٹک گیا لوگوں نے زور زبردستی اتارا مسئلہ پوچھا تو پتہ چلا بیچارہ سسرالیوں کی زیادتیوں سے زچ تھا۔ کوئی دفتر سے چھٹی پر بھی گھر اس لیے لیٹ جاتا ہے تاکہ سب سو جائیں اور وہ شانتی سے داخل ہو۔ کوئی پرانے ذاتی واقعات دہرا دہرا کر خود کو اذیت دیتا ہے تو کوئی اچھا بھلا صرف خیالی سوچوں سے ڈپریشن گلے لگا لیتا ہے۔

یہ جاننا اہم ھیکہ ڈپریشن و پریشانی کی صورت میں ابھرنے والے مسائل بیماری تصور نہیں کیے جاتے اگر یہ بیماری ہوتے تو کوئی عام ڈاکٹر بھی انکا علاج کر پاتا۔ دراصل یہ واقعات اور سوچ کے ردعمل میں قدرتی طور پر رونما انسانی رویہ ہے جسے واقعات کے ردوبدل یا تفکراتی تدبر کے تحت ختم تو نہیں کیا جا سکتا البتہ مینج کیا جا سکتا ہے۔

زندگی خوشی اور غم دونوں کے مابین توازن کا نام ہے۔ آپ یہ دعویٰ نہیں کر سکتے کہ خوش گوار زندگی میں غم اور پریشانی کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔ ہاں توازن بگڑ جائے تو الگ بات ہے۔ ہماری بحث اسی بگڑے توازن کے متعلق ہے۔ ہم اس بابت چند فرضی کیس زیربحث لاتے ہیں۔

اسلام آباد میں ایک پروفیسر ہیں جنکا بیٹا بیرون ملک زیر تعلیم ہے۔ ماہانہ خرچ چار لاکھ ہے جبکہ آمدن پانچ لاکھ۔ ایک لاکھ ماہانہ سیونگ ہے۔ اچھی سوسائٹی میں گھر بنانا ہے چار پانچ کروڑ لاگت ہے۔ تین سال سے سیونگ بڑھ نہیں رہی اسی لیے گھر میں جھگڑا رہتا ہے جسنے ڈپریشن بڑھا دیا ہے۔

ایک لڑکی ایف ایس سی سٹوڈنٹ ہے۔ والدین اور اساتذہ کو 90 فیصد رزلٹ چاہیے۔ سال ک چوتھا مہینہ گذرنے کو ہے وہ تین گھنٹے سے زائد سو نہیں پائی۔ انزائٹی کیوجہ سے چہرہ زرد ہو گیا ہے جبکہ والدین رشتے داروں کو برملا کہتے ہیں بچی زیادہ پڑھتی ہے اس لیے ایسی ہے بعد میں ٹھیک ہو جائے گی۔

ایک 30،35 سالہ شخص پرائیویٹ سیکٹر میں ملازم ہے۔ 90 ہزار تنخواہ ہے۔ والدین شوگر پیشنٹ ہیں کرائے کا گھر ہے۔ دو بہنوں کی شادی کرنی ہے اور دو بچے ہیں۔ شام کو کہیں اور کام ڈھونڈا ہے۔ آمدنی اچھی ہو جاتی ہے مگر 15،16 گھنٹے کام کرنے سے پچاس سال کا لگتا ہے۔ سر گنجا،آنکھوں کے گرد گہرے ہلکے بظاہر کوئی بیماری نہیں مگر نیند کی کمی اور تھکاوٹ نے دائمی انزائٹی کا مریض بنا دیا ہے۔

پروفیسر،ایف ایس سی والی لڑکی،اور پرائیویٹ ملازم تینوں نفسیاتی مسائل کا شکار ہیں۔ اب مسئلہ کہاں ہے ؟ پروفیسر تو پروفیسر ہے اسلام آباد میں چار پانچ کروڑ کا گھر تو چاہیے۔ گھر والے؟ وہ تو پروفیسر کے بیوی بچے ہیں کسی چھوٹے سکول یا ڈھابے سے تھوڑا پڑھائی کھانا چلائیں گے! آپ کہیں گے ایف ایس والی لڑکی پر ظلم ہے وہ نہیں کرسکتی تو آرٹس رکھوا دیں۔ لیکن اساتذہ کہتے ہیں بچوں کا رزلٹ اچھا نہ آیا تو سکول کا میعار خراب ہوگا۔ انہیں نوکری سے برخاست کیا جا سکتا ہے جبکہ والدین دہائی دیتے ہیں بچی نے اگر اچھی پڑھائی نہ کی تو اچھا رشتہ نہیں ملے گا۔ رہے پرائیویٹ ملازمت والے گنجے بھائی صاحب تو انکی دو بہنیں ہیں شادی کرنی ہے۔ کرائے کا گھر ہے، والدین کی دوائی ہے وغیرہ وغیرہ۔

تینوں مریض ہیں تو آخر مسئلہ کہاں ہے؟ یہاں پہلے سمجھنے کی بات یہ ھیکہ ڈپریشن بڑا مسئلہ نہیں ہے جب تک کہ سوچ کا منفی زاویہ خود ترسی کا پہلو حاوی نہ کر دے۔

ہم زمانے کے جس فیز میں ہیں اسکا میعار زندگی مذکورہ فرضی کیس کا عملی نمونہ ہے۔ سادہ لفظوں میں یوں کہ انسان کو آسودگی نہیں لگثری چاہیے۔ انگریزی کہاوت ھیکہ luxury comes after pain۔ لہذا اس کلیے کے تحت ماڈرن حکیم روز مرہ کے ڈپریشن کو اس وقت تک سیریس نہیں لیتے جب تک کہ انزائٹی کی ہنڈیا ابل کر دماغی توازن یا قلبی شریانوں کو تلملا نہ دے۔ اگر آپ اس کلیے پر یقین رکھتے ہیں تو اللّٰہ نہ کرے آپکی انزائٹی کی ہنڈیا ابلے۔ لیکن اگر آپ روز مرہ کے ڈپریشن کو مسئلہ سمجھتے ہیں اور خود کو معاشرے کا ڈسا یا ذاتی زیادتیوں کا شکار ہیں تو انتہائی سادہ حل یہ ھیکہ ڈپریشن کے مخالف تصوراتی سوچوں کو ذہن میں بتدریج مرحلہ وار پروان چڑھایا جائے۔

تصوراتی سوچ سے مراد محض افسانوی جنون کی پرورش نہیں بلکہ وقوع پذیر حقائق کو تقابلی و تجزیاتی آئینے میں ڈھال کر ذاتی شخصیت کا منفی و مثبت قد کاٹھ جانچنا ہے۔

آج سے تیس پینتیس برس قبل ایک گھر میں چچیروں ممیروں کی فوج ہوتی تھی اور کمانے والا بمشکل ایک دو۔ اب سب علیحدہ علیحدہ کماتے کھاتے ہیں مگر حالات آپکے سامنے ہیں۔

اسی طرح آپ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی زندگیوں کا اپنے ساتھ تقابلی تجزیہ کرلیں یا کم از کم 1947سے قبل اپنے آباؤاجداد کی مثال لیجیے اور اپنے آپ سے سوال کیجئے کہ آپ ان سے زیادہ تگڑے ہیں ؟ ذیادہ خوش ہیں ؟ فراغت کتنی ہے ؟ پچاس سال کے بعد آپ کیا کریں گے ؟

پہلے عورت بچوں میں اپنا صبر منتقل کرتی تھی آج کی عورت اپنا غصہ منتقل کرتی ہے۔ پہلے میٹرک پاس سارا قرآن خود پڑھ لیا کرتا تھا اور دس دس سال کا حساب زبانی یاد رکھتا تھا۔ آج کا پی ایچ ڈی باپ کے قلوں پر قاری کا منہ دیکھتا ہے ۔

دراصل ہم نے فکر و تدبر کا میٹر الٹا چالو کر رکھا ہے۔ کتابچوں میں سٹیٹس کو کا دائمی مرض بھراہے۔ جو دوسروں کا ہمارے متعلق گمان ہوتا ہے ہم اسے اپنے اوپر لازم کر لیتے ہیں۔ یہیں سے سوچ کے منفی زاویے کا آغاز ہوتا ہے۔ یعنی محنت تو آپ کریں مگر صلے کا میعار دوسروں پر چھوڑ دیں۔ مثلاً لوگ پسند نہیں کرتے،معاشرہ حوصلہ شکنی کرتا ہے،اور بیگانہ ردعمل انسان کو اپنی طرف دھکیلنے لگتا ہے اور اصل مقصد سے ہٹا دیتا ہے۔ فلاں نے ایسا کیا تھا وہ آج کہاں پہنچ گیا میں بھی وہی کرتا ہوں اور وہیں بیٹھا ہوں۔ ایسے خیالات اپنی ذات پر خود ترسی کی علامات ہیں۔ ایسے لوگوں کی پھرکی صرف دو جملوں پر اٹکی رہتی ہے “کیا ہوگا” اور “کیسے ہوگا”۔ یہ مادہ پرستی ہےاور ڈپریشن کی اصل جڑ بھی۔ یہاں تصوراتی سوچ کا دائرہ بھی ختم ہو جاتا ہے۔ انسان وہی سچ مانتا ہے جو سامنے ہوتا ہے۔

ایسے میں پروفیسر کو،اسکی بیوی بچوں کو،ایف ایس سی والی لڑکی کے والدین اور اساتذہ کو اور پرائیویٹ ملازمت والے بھائی صاحب کو آپ ڈپریشن،انزائٹی یا نفسیاتی مریض نہیں کہہ سکتے کیونکہ وہ معاشرتی ردعمل کو اپنا مقدر بنا لیتے ہیں۔ جو مادہ پرستی کا بلواسطہ یا بلاواسطہ شکار ہوتا ہے اسکے لیے تصوراتی سوچ ذہر قاتل بن جاتی ہے کیونکہ ایسے لوگوں کے تقابلی و تجزیاتی عوامل میں مادہ پرستی کا عنصر غالب رہتا ہے۔ یہ لوگ الٹا ڈاکٹر کو سمجھانے لگتے ہیں۔

جو لوگ لگثری کو فوقیت دیتے ہیں وہ مریض نہیں ہوتے بلکے ڈپریشن اور انزائٹی کو فخریہ قبول کرتے ہیں۔ انکا عقیدہ ہوتا ہے luxury comes after pain۔ ستم ظریفی یہ ھیکہ ان میں سے 60فیصد ایسے ہوتے ہیں جو پچاس کی عمر میں جان جاتے ہیں کہ little luxury comes after great pain۔ پھر اسکے بعد صرف گریٹ پین رہ جاتی ہے مگر یہ میسنے بن جاتے ہیں بتاتے نہیں ہیں۔

مذہب میں تصور کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ آپ نماز پڑھتے آپ نے تصور کرنا ہے آپ اللّٰہ سے باتیں کررہے ہیں۔ آپ قربانی کرتے ہیں تو تصور کرنا ہے کہ میری اولاد بھی حاضر ہے۔ کسی کو دفنا کر لوٹتے ہیں تو تصور کرنا ہے اسکی ناختم ہونے والی اچھی یا بری زندگی کا آغاز ہو چکا ہے۔ یہ تصور ہی ہے جو یقین کی کیفیت کو بڑھاتا گھٹاتا ہے۔

تصوراتی سوچیں انسانی رویے کو بدلتی ہیں۔ جیسا کہ فرمایا دنیا مومن کیلئے جیل خانہ ہے،دنیا میں مسافر کی طرح رہو، حقیقی زندگی کہیں اور ہے، مادہ پرست کیلئے ہلاکت ہے۔ بہتر وہ ہے جو لوگوں کو نفع دے۔ آدمی پہلے سوچتا ہے پھر سوچ تصور کی صورت میں عادت بن کر یقین میں بدل جاتی ہے تبھی جاکر انسان عملی قدم اٹھاتا ہے۔ اچھے تصور اور گمان اچھی سوچوں کا باعث بنتے ہیں اور اچھے تصور ڈپریشن اور انزائٹی کو رفع کرتے ہیں۔

حافظ حسان شفیق۔