Categories
Learn Quran Online

Azan in beautiful voice||اذان

Categories
Learn Quran Online

Fastest way to memorize Quran
کم وقت میں قرآن حفظ کرنے کا آسان طریقہ

1 پندرہ سطری قرآن لیجیئے اور ایک ہی قرآن کی کاپی کا انتخاب کریں اسے ہر گز نہ بدلیں۔

2 پہلے تین سے چار بار ایک صفحے کو پڑھیں۔

3 اس کے بعد پہلی آیت یا سطر کو دس سے پندرہ بار دہرائیں۔

4 اس کے بعد اس آیت یا سطر کو زبانی دہرائیں۔ جہاں غلطی ہو اس مقام کو انڈر لائن یا ہائی لائٹ کر لیں۔

5 اسی طرح اگلی آئیتوں یا سطروں کو ایک ایک کر کے پندرہ سے بیس بار دہرائی کیبعد زبانی پڑھیں۔ اور غلطیوں کو انڈر لائن کرتے جائیں۔

6 پچھلی حفظ شدہ آیتوں یا سطروں کو اگلی آیتوں کیساتھ ملا کر دہرائیں۔

7 غلطی والے انڈر لائن مقام کو اگلی آیت پر جانے سے پہلے چھ سے سات بار دہرائیں اور پھر پوری آیت زبانی پڑھیں۔

8 وقت کی پابندی کریں، خاموش اور آرام دہ جگہ کا انتخاب کریں۔

9 جو آپ یاد کر چکے ہیں وہ آیت، سطر یا صفحہ آگے بڑھنے سے قبل کسی قاری کو سنائیں۔

10 منزل یاد شدہ آیات، رکوع، یا پارے کو بولتے ہیں اور سبقی وہ صفحہ یا آیات ہوتی ہیں جو آپ حفظ کر رہے ہوتے ہیں اور قاری صاحب کو سنانے والے ہوتے ہیں۔پہلے تازہ حفظ کیا ہوا سبق سنائیں اور اس کے بعد منزل سنانا ہر گز نہ بھولیں۔

11 قرآن کو آہستہ آہستہ ٹھہر ٹھہر کر خوبصورت آواز میں پڑھنے کی کوشش کریں۔

12 اپنی نیت کو اللّٰہ کی رضا کیلئے خالص رکھیں، والدین اور اعزا کی دعاؤں کو شاملِ حال رکھیں۔

13 باہر آتے جاتے اور کہیں بھی کام سے فرصت ملے تو قرآن کی تلاوت کریں۔

14 اپنے پسندیدہ قرا کرام کی تلاوت بکثرت سنیں۔

15 جب آپ قرآن کو اپنا مقصد بنا لیں گے تو ہر منزل و مقام آسان اور قابل رسائی ہو جائے گا۔

Categories
Learn Quran Online

صدقہ و خیرات کی اہمیت اور فضیلت

بلا شبہ صدقہ بلاؤں کو ٹالتا ہے، مال میں اضافے کا باعث ہے، معاشرے سے غربت، چوری چکاری، اور بد امنی کے خاتمے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ بخاری کی روایت ہے حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا” ہر روز لوگوں پر اپنے ہر جوڑ ک صدقہ کرنا ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص کسی کے درمیان انصاف کروائے تو یہ بھی صدقہ ہے”

عن ابى هريرة رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: قال رجل: لأتصدقن بصدقة، فخرج بصدقته، فوضعها فى يد سارق، فأصبحوا يتحدثون، تصدق على سارق، فقال: اللهم لك الحمد، لأتصدقن بصدقة، فخرج بصدقته،فوضعها فى يدى زانية، فأصبحوا يتحدثون: تصدق اليلة على زانية. فقال: اللهم لك الحمد على زانية؟ لأتصدقن بصدقة. فخرج بصدقته، فوضعها فى يدى غنى، فأصبحوا يتحدثون تصدق على غني. فقال: اللهم لك الحمد على سارق، وعلى زانية، وعلى غني. فأتي، فقيل له، أما صدقتك على سارق :فلعله أن يستعف عن سرقته، وأما الزانية فلعلها أن يستعف عن زناها، وأما الغني فلعله يعتبر، فينفق مما أعطاه الله. متفق عليه.

ایک آدمی نے کہا کہ وہ صدقہ کرے گا۔ لہذا وہ صدقہ کرنے رات کو مال لیے نکلا اور ایک چور کو دے بیٹھا۔ صبح لوگ کہنے لگے چور پر صدقہ کیا گیا ہے۔ اس نے کہا اے خدا ! سب تعریفیں تیرے لیے ہیں۔ میں پھر صدقہ کروں گا۔ وہ سامان لیکر نکلا اور ایک بدکار عورت کو دے آیا۔ صبح لوگ بولے بدکار آج رات عورت پر صدقہ ہو گیا۔ اس نے کہا اے اللّٰہ! سب تعریفیں تیرے لیے ہیں میں ضرور پھر صدقہ کروں گا لہذا وہ مال لیکر نکلا تو اس بار ایک مالدار کو دے آیا۔ صبح لوگ پھر چرچ کرنے لگے کہ مالدار کو صدقہ ہو گیا۔ اس نے کہا اے اللّٰہ سب تعریفیں تیرے لیے ہیں، افسوس کہ چور ، زانیہ اور غنی کو صدقہ دے بیٹھا ہوں۔ پھر اسے لا کر کہا گیا تم نے چور کو جو صدقہ چور کو دیا تو شاید اس سے وہ چوری سے باز آجائے،اور زانیہ بدکاری سے بچ جائے اور مالدار عبرت پکڑ کر اللّٰہ کی راہ میں خرچ کرنے لگے۔

ابو داؤد کی روایت ہے جس میں سعد بن عبادہ رضی اللّٰہ عنہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کرتے ہیں کہ میری والدہ کا انتقال ہو گیا ہے۔ان کے لئیے کونسا عمل افضل ہے؟ تو آپ نے فرمایا پانی پلانا۔ انہوں نے والدہ کے نام پر ایک کنواں کھدوا دیا۔

ابن ماجہ میں حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس رات مجھے سیر کرائی گئی میں نے جنت کے دروازے پر لکھا ہوا دیکھا کہ صدقہ کا ثواب دس گنا اور قرض کا ثواب اٹھارہ گنا ہے۔ آپ نے جبریل علیہ السلام سے پوچھا قرض دینا صدقہ سے افضل کیوں ہےتو جبریل نے کہا بسا اوقات بھیک مانگنے والے کے پاس کچھ نہ کچھ ہوتا ہے جبکہ قرض مانگنے والا بلا ضرورت نہیں مانگتا۔

عن ابی ھریرة رضى الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: إذا مات الانسان انقطع عنه عمله إلا من ثلاثة. الا من صدقة جارية أو علم ينتفع به أو ولد صالح يدعوله. رواه مسلم

ابو ھریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا جب انسان مر جاتا ہے تو اعمال ک سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے ما سوائے تین کے۔ صدقہ جاریہ، نفع بخش علم اور نیک اولاد جو اسکے مرنے پر دعا کرے۔

متفق علیہ کی روایت ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری نے فرمایا حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر مسلمان کیلئے صدقہ ضروری ہے۔ لوگوں نے عرض کی اگر کوئی استطاعت نہ رکھتا ہو تو؟ آپ نے فرمایا اپنے ہاتھوں سے کام کرے، لوگوں نے عرض کی اگر اسکی بھی طاقت نہ ہو؟ فرمایا ضرورت مند اور محتاج کی مدد کرے۔ لوگوں نے عرض کی اگر ایسا بھی ممکن نہ ہو؟ آپ نے فرمایا اسے چاہیے کہ خیر و نیکی ک حکم کرے۔ لوگوں نے پھر کہا اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو کیا کیا جائے؟ فرمایا وہ برائی سے رکا رہے کیونکہ یہی اسکا صدقہ ہے۔

بخاری و مسلم کی ایک روایت میں حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا سات آدمی ایسے ہیں جنہیں اللّٰہ تعالٰی قیامت کے روز اپنے سایہ رحمت میں جگہ دے گا اور ان ساتھ میں اسکا بھی ذکر فرمایا جو چھپا کر خیرات کرے یہاں تک کہ بائیں ہاتھ کو بھی معلوم نہ ہو کہ دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا۔