Categories
Learn Quran Online

علاج نبوی:بھوک نہ لگنا

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ عنہا کاایک روایت میں فرمان ہے ؛

كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا قيل له أن فلانا وجع لا يطعم الطعام،فقال!عليكم بالتلبينه فحسوه اياها-ويقول؛والذى نفسى بيده، انها تغسل بطن احدكم كما تغسل أحدا كن وجهها من الوسخ (ترمذى، النساى)

جب رسول مقبول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے روبرو یہ عرض کی جاتی کہ فلاں شخص کو بھوک نہیں لگتی اور وہ کمزور ہو رہا ہے تو آپ فرماتے تمہارے لیے تلینہ موجود ہے اسکو کھاؤ اور فرماتے قسم ہے اس خدا کی جسکے قبضے میں میری جان ہے، یہ تمہارے پیٹ کو یوں دھو کر صاف کرتا ہے جیسے تم چہرے کو پانی سے دھو کر گندگی سے صاف کرتے ہو۔

تلبینہ بنانے کا طریقہ۔Talbina banany ka tarika
2 لیٹر دودھ کو ابال لیں، دو سو گرام جو اس میں ڈال دیں پھر 20-25 منٹ پکائیں یہاں تک کہ کھیر کی طرح پک کر گاڑھا ہو جائے۔ساتھ ساتھ چمچے سے ہلاتے بھی رہیں تاکہ دودھ نیچے نہ لگے۔ حسبِ ذائقہ چینی، شہد، یا دس بارہ کھجوریں مکس کریں،اس کے بعد دس منٹ ہلکی آنچ پر مزید پکائیں اور چمچے کیساتھ مسلسل ہلاتے رہیں۔ اسکے بعد کسی برتن میں نکال لیں۔ بادام کا چھڑکاؤ کر کے کھایئے اور دودھ پیتے بچوں کو نہ دیں۔

Categories
Learn Quran Online

Azan in old punjabi tone and rhythm|| Azan in beautiful voice

Categories
Learn Quran Online

طلاق ایک لفظ، فیصلہ یا ذہنی سوچ

Categories
Learn Quran Online

ڈپریشن،غم کا علاج اور مسنون دعائیں

ڈپریشن کیا ہے؟ مسلمان کیلئے غم صرف ایک ہی ھیکہ وہ دنیاوی زندگی پر اخروی زندگی کو ترجیح دے۔ یہ محض غم ہی نہیں بلکہ مسلمان کیلئے تباہی ہے۔ایسے میں مسلمان توکل کی کنڈی ڈھیلی چھوڑ دیتا ہے جس کے نتیجے میں وہم فکر، پریشانی وغیریقینی کیفیت دنیاداری کا غلام بنا دیتی ہے۔آدمی سوچتا ہے فلاں مسئلہ کیسے حل ہوگا؟،فلاں ضرورت میں کیا مراباپ مرے ساتھ ہوگا؟کیا تھا اگر بڑی بہن تھوڑی مدد کر دیتی؟ وہ تو امیر بھی ہے. لہذا وہ میری مدد نہیں کرتے تو میں کیوں کروں؟لوگ مجھ سے ذیادتی کیوں کرتے ہیں؟ وغیرہ وغیرہ۔

یہ تب ہوتا ہے جب اللّٰہ پر یقین و توکل کی کنڈی ڈھیلی پڑ جائے۔مسلمان کو عبادت سے قبل یہ سمجھ لینا چاہیے کہ فلسفۂ زندگی ایسی مسلسل جدو جہد کا نام ہے جسکا حتمی صلہ اس زندگی میں ہرگز ممکن نہیں کیونکہ زندگی فانی ہے اسکا صلہ فانی نہیں ہے۔ مسلسل جدو جہد یہ ھیکہ اپنی زندگی کو اللّٰہ اور اسکے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی اتباع میں کھپایا جاۓ۔

انسان کو لہذا چاہیے کہ وہ البتہ کسبِ حلال کا متلاشی رہے مگر کھانے پینے کو متاع کل نہ سمجھے۔جب نماز قربانی اور جینا مرنا صرف اللّٰہ کیلئے ہے تو غم کیسا؟مسلمان تو اللّٰہ کے ہاں دہاڑی دارہے۔ اسے پتہ ہے وہ مالک ہیراپھیری نہیں کرتا۔اور اس مالک نے حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو بطورِ نمائندہ بناکر بھیجا جنہوں نے فلسفۂ زندگی اور اللّٰہ پر توکل کو نہایت مفصل انداز میں عملی طور پر سمجھایا۔ مسلمان کیلئے غم کا علاج حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی اتباع کیطرف رجوع کرناہے۔

ذیل میں چند مسنون دعائیں مذکور ہیں جو مختلف مواقع پر حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بتلائیں کہ جنکی مدد سے ایک مومن و مسلم کی دنیاوی غم وپریشانی رفع ہو جاتی ہے اور اللّٰہ پر توکل مزید بڑھ جاتا ہے۔

Categories
Learn Quran Online

نفسیاتی مسائل میں تصوراتی سوچ کا عمل دخل

آپ کو اگر دو چار سال سے نفسیاتی مسائل کا کسی حد تک سامنا ہے تو آپ اس بات سے متفق ہوں گے کہ ڈاکٹر نیند کی گولی اور ذاتی بھاشن کے سوا کچھ نہیں کر سکتا۔

ڈپریشن اور انزائٹی کا مریض ڈاکٹر کے پاس جانے کو آسانی سے تیار نہیں ہوتا۔زیادتی تب زیادہ ہوتی ہے جب تیماردار مریض کو سمجھانے لگتے ہیں۔ “خوش رہا کرو” یہ ایسا جملہ ہے جسے سن کر ڈپریشن ونفسیاتی پن کا مریض بھنبھنا جاتا ہے۔سب اسے سمجھاتے ہیں مگر کوئی اسے سمجھنے کو تیار نہیں ہوتا۔ نفسیاتی مریض عام آدمی سے کہیں زیادہ دور اندیش ہوتا ہے وہ معمولی معاملات کو بھی باریک بینی سے جانچنے کا عادی ہوتا ہے۔ ایسے مریض میں انزائٹی کی شدت اس وقت انتہائی بڑھ جاتی ہے جب وہ کسی مسئلے کی تہہ تک پہنچ کر حل بھی ڈھونڈ نکالے مگر عملی طور پر ناکام رہے۔ جہاں تک مسئلے کا تعلق ہے تو یہ گھریلو،معاشی،سماجی،سیاسی،زاتی یا کوئی اور بھی ہو سکتا ہے۔ مثلاً پچھلے دنوں ایک آدمی بجلی کے کھمبے سے لٹک گیا لوگوں نے زور زبردستی اتارا مسئلہ پوچھا تو پتہ چلا بیچارہ سسرالیوں کی زیادتیوں سے زچ تھا۔ کوئی دفتر سے چھٹی پر بھی گھر اس لیے لیٹ جاتا ہے تاکہ سب سو جائیں اور وہ شانتی سے داخل ہو۔ کوئی پرانے ذاتی واقعات دہرا دہرا کر خود کو اذیت دیتا ہے تو کوئی اچھا بھلا صرف خیالی سوچوں سے ڈپریشن گلے لگا لیتا ہے۔

یہ جاننا اہم ھیکہ ڈپریشن و پریشانی کی صورت میں ابھرنے والے مسائل بیماری تصور نہیں کیے جاتے اگر یہ بیماری ہوتے تو کوئی عام ڈاکٹر بھی انکا علاج کر پاتا۔ دراصل یہ واقعات اور سوچ کے ردعمل میں قدرتی طور پر رونما انسانی رویہ ہے جسے واقعات کے ردوبدل یا تفکراتی تدبر کے تحت ختم تو نہیں کیا جا سکتا البتہ مینج کیا جا سکتا ہے۔

زندگی خوشی اور غم دونوں کے مابین توازن کا نام ہے۔ آپ یہ دعویٰ نہیں کر سکتے کہ خوش گوار زندگی میں غم اور پریشانی کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔ ہاں توازن بگڑ جائے تو الگ بات ہے۔ ہماری بحث اسی بگڑے توازن کے متعلق ہے۔ ہم اس بابت چند فرضی کیس زیربحث لاتے ہیں۔

اسلام آباد میں ایک پروفیسر ہیں جنکا بیٹا بیرون ملک زیر تعلیم ہے۔ ماہانہ خرچ چار لاکھ ہے جبکہ آمدن پانچ لاکھ۔ ایک لاکھ ماہانہ سیونگ ہے۔ اچھی سوسائٹی میں گھر بنانا ہے چار پانچ کروڑ لاگت ہے۔ تین سال سے سیونگ بڑھ نہیں رہی اسی لیے گھر میں جھگڑا رہتا ہے جسنے ڈپریشن بڑھا دیا ہے۔

ایک لڑکی ایف ایس سی سٹوڈنٹ ہے۔ والدین اور اساتذہ کو 90 فیصد رزلٹ چاہیے۔ سال ک چوتھا مہینہ گذرنے کو ہے وہ تین گھنٹے سے زائد سو نہیں پائی۔ انزائٹی کیوجہ سے چہرہ زرد ہو گیا ہے جبکہ والدین رشتے داروں کو برملا کہتے ہیں بچی زیادہ پڑھتی ہے اس لیے ایسی ہے بعد میں ٹھیک ہو جائے گی۔

ایک 30،35 سالہ شخص پرائیویٹ سیکٹر میں ملازم ہے۔ 90 ہزار تنخواہ ہے۔ والدین شوگر پیشنٹ ہیں کرائے کا گھر ہے۔ دو بہنوں کی شادی کرنی ہے اور دو بچے ہیں۔ شام کو کہیں اور کام ڈھونڈا ہے۔ آمدنی اچھی ہو جاتی ہے مگر 15،16 گھنٹے کام کرنے سے پچاس سال کا لگتا ہے۔ سر گنجا،آنکھوں کے گرد گہرے ہلکے بظاہر کوئی بیماری نہیں مگر نیند کی کمی اور تھکاوٹ نے دائمی انزائٹی کا مریض بنا دیا ہے۔

پروفیسر،ایف ایس سی والی لڑکی،اور پرائیویٹ ملازم تینوں نفسیاتی مسائل کا شکار ہیں۔ اب مسئلہ کہاں ہے ؟ پروفیسر تو پروفیسر ہے اسلام آباد میں چار پانچ کروڑ کا گھر تو چاہیے۔ گھر والے؟ وہ تو پروفیسر کے بیوی بچے ہیں کسی چھوٹے سکول یا ڈھابے سے تھوڑا پڑھائی کھانا چلائیں گے! آپ کہیں گے ایف ایس والی لڑکی پر ظلم ہے وہ نہیں کرسکتی تو آرٹس رکھوا دیں۔ لیکن اساتذہ کہتے ہیں بچوں کا رزلٹ اچھا نہ آیا تو سکول کا میعار خراب ہوگا۔ انہیں نوکری سے برخاست کیا جا سکتا ہے جبکہ والدین دہائی دیتے ہیں بچی نے اگر اچھی پڑھائی نہ کی تو اچھا رشتہ نہیں ملے گا۔ رہے پرائیویٹ ملازمت والے گنجے بھائی صاحب تو انکی دو بہنیں ہیں شادی کرنی ہے۔ کرائے کا گھر ہے، والدین کی دوائی ہے وغیرہ وغیرہ۔

تینوں مریض ہیں تو آخر مسئلہ کہاں ہے؟ یہاں پہلے سمجھنے کی بات یہ ھیکہ ڈپریشن بڑا مسئلہ نہیں ہے جب تک کہ سوچ کا منفی زاویہ خود ترسی کا پہلو حاوی نہ کر دے۔

ہم زمانے کے جس فیز میں ہیں اسکا میعار زندگی مذکورہ فرضی کیس کا عملی نمونہ ہے۔ سادہ لفظوں میں یوں کہ انسان کو آسودگی نہیں لگثری چاہیے۔ انگریزی کہاوت ھیکہ luxury comes after pain۔ لہذا اس کلیے کے تحت ماڈرن حکیم روز مرہ کے ڈپریشن کو اس وقت تک سیریس نہیں لیتے جب تک کہ انزائٹی کی ہنڈیا ابل کر دماغی توازن یا قلبی شریانوں کو تلملا نہ دے۔ اگر آپ اس کلیے پر یقین رکھتے ہیں تو اللّٰہ نہ کرے آپکی انزائٹی کی ہنڈیا ابلے۔ لیکن اگر آپ روز مرہ کے ڈپریشن کو مسئلہ سمجھتے ہیں اور خود کو معاشرے کا ڈسا یا ذاتی زیادتیوں کا شکار ہیں تو انتہائی سادہ حل یہ ھیکہ ڈپریشن کے مخالف تصوراتی سوچوں کو ذہن میں بتدریج مرحلہ وار پروان چڑھایا جائے۔

تصوراتی سوچ سے مراد محض افسانوی جنون کی پرورش نہیں بلکہ وقوع پذیر حقائق کو تقابلی و تجزیاتی آئینے میں ڈھال کر ذاتی شخصیت کا منفی و مثبت قد کاٹھ جانچنا ہے۔

آج سے تیس پینتیس برس قبل ایک گھر میں چچیروں ممیروں کی فوج ہوتی تھی اور کمانے والا بمشکل ایک دو۔ اب سب علیحدہ علیحدہ کماتے کھاتے ہیں مگر حالات آپکے سامنے ہیں۔

اسی طرح آپ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی زندگیوں کا اپنے ساتھ تقابلی تجزیہ کرلیں یا کم از کم 1947سے قبل اپنے آباؤاجداد کی مثال لیجیے اور اپنے آپ سے سوال کیجئے کہ آپ ان سے زیادہ تگڑے ہیں ؟ ذیادہ خوش ہیں ؟ فراغت کتنی ہے ؟ پچاس سال کے بعد آپ کیا کریں گے ؟

پہلے عورت بچوں میں اپنا صبر منتقل کرتی تھی آج کی عورت اپنا غصہ منتقل کرتی ہے۔ پہلے میٹرک پاس سارا قرآن خود پڑھ لیا کرتا تھا اور دس دس سال کا حساب زبانی یاد رکھتا تھا۔ آج کا پی ایچ ڈی باپ کے قلوں پر قاری کا منہ دیکھتا ہے ۔

دراصل ہم نے فکر و تدبر کا میٹر الٹا چالو کر رکھا ہے۔ کتابچوں میں سٹیٹس کو کا دائمی مرض بھراہے۔ جو دوسروں کا ہمارے متعلق گمان ہوتا ہے ہم اسے اپنے اوپر لازم کر لیتے ہیں۔ یہیں سے سوچ کے منفی زاویے کا آغاز ہوتا ہے۔ یعنی محنت تو آپ کریں مگر صلے کا میعار دوسروں پر چھوڑ دیں۔ مثلاً لوگ پسند نہیں کرتے،معاشرہ حوصلہ شکنی کرتا ہے،اور بیگانہ ردعمل انسان کو اپنی طرف دھکیلنے لگتا ہے اور اصل مقصد سے ہٹا دیتا ہے۔ فلاں نے ایسا کیا تھا وہ آج کہاں پہنچ گیا میں بھی وہی کرتا ہوں اور وہیں بیٹھا ہوں۔ ایسے خیالات اپنی ذات پر خود ترسی کی علامات ہیں۔ ایسے لوگوں کی پھرکی صرف دو جملوں پر اٹکی رہتی ہے “کیا ہوگا” اور “کیسے ہوگا”۔ یہ مادہ پرستی ہےاور ڈپریشن کی اصل جڑ بھی۔ یہاں تصوراتی سوچ کا دائرہ بھی ختم ہو جاتا ہے۔ انسان وہی سچ مانتا ہے جو سامنے ہوتا ہے۔

ایسے میں پروفیسر کو،اسکی بیوی بچوں کو،ایف ایس سی والی لڑکی کے والدین اور اساتذہ کو اور پرائیویٹ ملازمت والے بھائی صاحب کو آپ ڈپریشن،انزائٹی یا نفسیاتی مریض نہیں کہہ سکتے کیونکہ وہ معاشرتی ردعمل کو اپنا مقدر بنا لیتے ہیں۔ جو مادہ پرستی کا بلواسطہ یا بلاواسطہ شکار ہوتا ہے اسکے لیے تصوراتی سوچ ذہر قاتل بن جاتی ہے کیونکہ ایسے لوگوں کے تقابلی و تجزیاتی عوامل میں مادہ پرستی کا عنصر غالب رہتا ہے۔ یہ لوگ الٹا ڈاکٹر کو سمجھانے لگتے ہیں۔

جو لوگ لگثری کو فوقیت دیتے ہیں وہ مریض نہیں ہوتے بلکے ڈپریشن اور انزائٹی کو فخریہ قبول کرتے ہیں۔ انکا عقیدہ ہوتا ہے luxury comes after pain۔ ستم ظریفی یہ ھیکہ ان میں سے 60فیصد ایسے ہوتے ہیں جو پچاس کی عمر میں جان جاتے ہیں کہ little luxury comes after great pain۔ پھر اسکے بعد صرف گریٹ پین رہ جاتی ہے مگر یہ میسنے بن جاتے ہیں بتاتے نہیں ہیں۔

مذہب میں تصور کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ آپ نماز پڑھتے آپ نے تصور کرنا ہے آپ اللّٰہ سے باتیں کررہے ہیں۔ آپ قربانی کرتے ہیں تو تصور کرنا ہے کہ میری اولاد بھی حاضر ہے۔ کسی کو دفنا کر لوٹتے ہیں تو تصور کرنا ہے اسکی ناختم ہونے والی اچھی یا بری زندگی کا آغاز ہو چکا ہے۔ یہ تصور ہی ہے جو یقین کی کیفیت کو بڑھاتا گھٹاتا ہے۔

تصوراتی سوچیں انسانی رویے کو بدلتی ہیں۔ جیسا کہ فرمایا دنیا مومن کیلئے جیل خانہ ہے،دنیا میں مسافر کی طرح رہو، حقیقی زندگی کہیں اور ہے، مادہ پرست کیلئے ہلاکت ہے۔ بہتر وہ ہے جو لوگوں کو نفع دے۔ آدمی پہلے سوچتا ہے پھر سوچ تصور کی صورت میں عادت بن کر یقین میں بدل جاتی ہے تبھی جاکر انسان عملی قدم اٹھاتا ہے۔ اچھے تصور اور گمان اچھی سوچوں کا باعث بنتے ہیں اور اچھے تصور ڈپریشن اور انزائٹی کو رفع کرتے ہیں۔

حافظ حسان شفیق۔

Categories
Learn Quran Online

SHOULD WE STOP ANIMAL SACRIFICE ON EID FESTIVAL!

Few people are of the view that slaughtering an innocent animal is a moral crime therefore, charity to the poor is better and kind act. They believe Muslims just kill animals and eat them leaving behind poor with an empty hand.

Morally or logically, the argument is pathetic because the sacrifice is not merely an eat festive rather it is a successful annual cycle of economic growth in which, many industries are involved. Merchants and traders feed and care animals throughout an year. Livestock industry provides jobs to the locals. Domestic farmers get profit by selling the forb, wheat, and other agricultural animal food. Butchers grab millions of rupees in just three days. Moreover, the event boosts factories work to produce leather items. Poor people from all across the Muslim country eat free meat for many days. Now you can imagine how much the population is involved in an eve to make it the biggest economic activity of a country especially in Pakistan and other Muslim countries.

People having negative notions about the event either fail to understand the actual cause of sacrifice or they intentionally promote paid agendas.

It is not merely a slaughter or bloodshed of an animal rather the idea is to show faith of sacrifice for the well-being of humanity and obtain piety from Allah. As He says;

Henceforth, the sole purpose of Eid ul Azha sacrifice is not to eat or kill an animal, but to sake God’s mercy by following the commandments of God. God says;

So at the end, what else remains for us except obeying Allah. Qur’an is the word Allah so therefore, it is eminent upon us all to follow whatever He says and quit whatever he forbibs.

Categories
Learn Quran Online

Best Reciters of the world

1- MUHAMMAD KHALIL AL-HUSSARY (Sep 17,1917-Nov 24,1980)

He was famous recited, tutor, auther, and president of the Qur’an Reciters Union. He was from Egypt. At the age of 8, he memorized the whole Qur’an. Al-Hussary studied in Ahmed Al-Badawi mosque and Al-Azhar University Cairo. He achieved diploma in Al-Qira’at al Ashr ( the ten recitations). Sheikh was the member of Egypt’s official Qur’an radio station. In 1944, he won Egypt Radio’s Qur’an Recitation Competition. Al-Hursary was also appointed to the board of Islamic research on Hadith and the Qur’an at Al-Azhar. In 1967, he was nominated as the president of the Islamic world league of Qur’an reciters. In 1960, he was the first Egyptian Qari to arrive in subcontinent. Sheikh also travelled to the world.

2- MUHAMMAD SIDDIQUE ALMINSHAWI (Jan 20,1920 – June 20,1969)

Sheikh Alminshawi was widely acclaimed Qur’an reciter from Egypt. By profession, he was a scholar, auther, and Qari. He travelled to many countries for recitation like Indonesia, Jordan, Kuwait, Saudi Arabia, Syria etc. He held the title “Shaykh Al-Maqari”.

3- ABDUL BASIT ABDU SAMAD ( 1927- 1988 )

He had a golden throat and the voice of heaven due to his melodious tone, and outstanding breath contro with unique rhythm. He travelled throughout the world including Haram Mosque and Badshahi mosque in Pakistan.

4- SHEIKH MUSTAFA ISMAIL ( June 17,1905 – Dec 26,1978 )

Mustafa Ismail was nominated as King’s Qari. He was also appointed as official reciter for Egypt’s Recitation Radio Station. Dr.Ahmed Nuaina and composer Abdel Wahab were of the opinion that Mustafa Ismail had unique styles and methods. He moved voice easily between maqamat. In 147, he became Al-Azhar’s reciter.

5- MAHMOOD ALI ALBNAA ( Dec 17,1926 – Jul 20,1985 )

Sheikh was also among the shining galaxy of great Qur’an reciters. He memorized Qur’an at the age of eleven. In 1945, he arrived in Cairo and gained fame in short interval. In 1948, he joined the official radio station. Sheikh also recited in holy mosques of Madina and Al-Aqsa.

6- KAMEL YUSUF ALBAHTIMI

He was among the widely acclaimed reciters of 20th century. He got considerable fame and dignity in 1950s and 60s.

7- MUHAMMAD RIF’AT ( May 9,1882 – May 9,1950 )

Sheikh Rif’at was the first reciter who read on Egyptian Cairo Radio on May 31, 1934. His voice and style was copied by many reciters later on.

8-ABDUL REHMAN IBN ABDULL AZIZ AL-SUDAIS ( Feb 10, 1960 )

He is the imam of the grand Mosque in Makkah. He is also the president of the General presidency for the affairs of the two Holy Mosques.

9-SAUD AL-SHURAIM

Saud Ibn Ibrahim Ibn Muhammad Al-Shuraim was born in 1964. He is a famous Qur’an reciter. He delivers sermons in Masjid Al- Haram. He holds a P.H.D degree in Sharia and Islamic studies. He is a professor at the Ummul Qura University in Makkah.

10-MUHAMMAD AYYUB

Muhammad Ayyub Ibn Muhammad Yusuf Ibn Sulaiman Umar was born in Makkah in 1951 and died in 2016. Sheikh was the prominent Qari and Imam of Masjid Nabvi in Madina. He was also the faculty member of the department of Tafseer in the faculty of the Holy Qur’an and Islamic studies at the Islamic University of Madina.

11-MISHARY BIN RASHID ALAFASY

He was born in Kuwait. He is among the top reciters of the present era. He is a proficient reciter, preacher, and nasheed artist. He studied in Madina University.

12-RAAD MUHAMMAD AL KURDI

He was born in 1991 in Kurdistan. He is also the famous reciter of present period.

13-NASER AL QATAMI

He is a versatile reciter of the Holy Qur’an. He was born in 1980 in Saudi Arabia.

14-SYED SADAQAT ALI

He is a famous Pakistani reciter. He has been honored with Sitara e Imtiaz and pride of performance. He holds a chairmanship of Sautul Qura International Pakistan. He is best known for PTV program Aao Qur’an Parhein.

OTHER NOTABLE RECITERS;

15-SHEIKH AHMAD BIN YUSUF AL AZHARI ( BANGLADESH )

16-SHEIKH SHABAN ABDUL AZIZ AL SAYAD

17-SHEIKH TAHA ALFASHNI

18-SHEIKH ABUL AINAIN SHU’AISHA

19-HAJJAJ RAMADAN ALHINDAVI

20-MUHAMMAD ANWAR SHUHAT

21-AHMAD NUAINA

22-AHMAD BIN ALI AL-AJMI

23-SAAD ALGHAMBI

Categories
Learn Quran Online

Best tips and rules for Quran memorization.

For every Muslim, it is mandatory to seek knowledge from cradle to grave.

It is a Destiny to be achieved by every adult Muslim. In this sake, undoubtedly, Quran is the book to be unfolded first. Among basic teachings, we find in it are the general principles of natural and successful lifestyle in form of commandments. Breif codes and rules are generated for the welfare of humanity generally and for Muslims in specific.

It is a fine craze in the Muslim world that millions of teanagers memorize whole Quran in short span of Time.

Every second adult dreams and tries to hifz it. Therefore, in the following circumstances, the need of an hour is to explain and introduce the brief procedure or successful method of Quran memorization.

There isn’t a single execution method for all, but however, we can draw a path of general methodology from which, a student or tutor can further shortlist and add as per his/her criteria of easement.

So following are the rules and tips for Quran memorization;

1- plan; make three plans per day. Preferably first after Fajr prayer, second after Asr, and third before bed.

2-Listen; Make a routine of listening Quran. Listen before reading.

3-Lesson Plans; Execute lesson plans daily by selecting number of verses or pages as per your capacity.

4-Repeat; Repeat in a drilling process, read 10 to 15 times from one to five verses before memorization.

5-Loud Reading during repetition and after memorization.

6-Pause; Take a pause of few minutes between drilling, repeating, and memorization.

7-Orally Reading; Recite orally and ask tutor or anybody to listen. This practice should be done atleast once daily.

8-Time/Commitment; never compromise on time and place suitable for you.

9-Revision; Never start fresh lesson without last day’s revision.

10-Prayer Recitation; Always try to read the fresh memorized lesson in prayer.

11-Peer/Group Recitation; peer recitation is the fastest way to memorize. A group recitation is a method of hifz in which you can save time by reading, drilling, and memorizing in one sitting. Moreover, a competition pressure will create ideal environment for intelligent brains to compete fast.

12-One and same copy till last so you can highlight your mistakes and errors to overcome later on.

13-Understanding; Memorization with conceptual understanding and translation will mount the learner’s interest.

14-Traweeh; Whatever the portion/juz you hifz, recite in Traweeh or Qayam-ul-lail.

15-Write; this is not mandatory but if you have an interest, you can write and compare with text after hifz. This method would be applied in the absence of companionship.

16-Quit cold drinks and fast food and drink more water to avoid breath and mental exhaustion during long recitation.

17-Make abolition before recitation and recite the following duas;

Categories
Learn Quran Online

Best Online Quran Tutors!

Welcome to the World Best Online Quran Tutors website.